کاروار :12؍ نومبر(ایس اؤ نیوز)ملک میں بڑھتی بے روزگاری سےپریشان نوجوان اور ان کے والدین فریبی لوگوں کے جھانسے میں آکر خطیر رقومات گنوا بیٹھنے کے واقعات میں اضافہ دیکھاجارہاہے، سال بہ سال دھوکہ دہی معاملات میں بڑھوتری ہونے سے کسی پر اعتماد کرنا مشکل ہورہاہے۔ محکمہ پولس کی طرف سے جاری کردہ جانکاری اسی طرف اشارہ کررہےہیں۔
محکمہ پولس کی طرف سےجاری کردہ جانکاری کےمطابق جھانسہ دینے کے واقعات کو لے کر سال 2020میں 2۔2021میں 7اور2022میں 8معاملات درج ہوئےہیں یعنی تین سالوں میں کل 17دھوکہ دہی کے کیس درج ہوئےہیں۔ تو ذرا پہلے ان جملوں پر غورکیجئے۔
’مجھے بحریہ کے سنئیر افسران کے ساتھ بہتر شناسائی ہے، اگر وہ ہاں کہہ دیں تو تمہاری نوکری یقینی ، اس کےلئے قریب 15لاکھ روپئے چاہئے ، اب فی الحال 1لاکھ روپئے میرے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کرو، بقیہ جب جب میں کہتا ہوں تب ٹرانسفر کرو‘۔
*’میں بھارتی فوج کا ملازم ہوں، تمہارے بیٹے کو آرمی میں کام دلوا سکتاہوں ، فی الحال 35ہزارروپئے ادا کروں ، کام ہونے کے بعد بقیہ رقم دو‘۔
*’ گھر سے ہی کام کیجئے ، ماہانہ 15ہزارروپئے اضافی کمائیے ، کیو آر کوڈ اسکیان کرو، رجسٹریشن فیس 5ہزارروپئے اداکریں‘۔
ملازمت کی تلاش میں سرگرداں نوجوان اوران کے والدین کے ساتھ ان کی ہمدردی اور سہارے کی بات لے کر میٹھی زبان میں جھوٹ بول کر رقم اینٹھنےکے واقعات عام ہوتےجارہےہیں۔ ضلع میں کدمبا بحریہ اڈے اور کئیگا پاور پلانٹ کی توسیع کا کام جاری ہے۔ کئی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ متعلقہ توسیع کو لےکر کئی طرح روزگار میسر ہونگے، ایسے لوگ فریبی لوگوں کے جھانسے میں آنے کی بات کہی جارہی ہے۔ اسی طرح ’گوا، ممبئی کی کمپنیوں میں کام دلوانے کے جھوٹے وعدوں سے بھی لوگ دھوکہ کھارہےہیں۔
پچھلے چند دنوں پہلے خود کو ملٹری ملازم بتانے والے ایک ملزم کو گرفتار کیاگیاتھا۔ ایک خاتون سے اس کے بیٹے کو ملازمت دلوانے کے بہانے 35ہزارروپئے اینٹھ لیا ۔ جب نوکری بھی نہیں اور رقم بھی نہیں ملی تو خاتون نے جب پولس تھانہ میں شکایت درج کی تو ملزم پکڑا گیا۔
چند ماہ پہلے انکولہ کے ایک جوڑے سے ممبئی کے دولوگوں نے 14.50لاکھ روپئے کا جھانسہ دئیے تھے۔ خاتون کو مرکزی حکومت میں روزگار دلانےکا بھروسہ دلا کر مرحلہ وار اپنے بینک اکاؤنٹ میں رقم جمع کرلئےہیں۔ فریبیوں کو پہچاننے سےپہلے جوڑے نے اپنی گاڑھی کمائی کھو چکےتھے۔ اس طرح جھانسہ دینےو الوں میں خاتون بھی شامل ہیں۔ کاروار کی دو عورتیں اپنے بیٹوں کے لئے روزگار کی تلاش میں تھے۔ تعلقہ کے بینگا میں پہچان بنانے والی ایک عورت نے انہیں بحریہ اڈے کی اسکول کی استانی بتائی۔ تمہارے بچوں کو اعلیٰ عہدے کی نوکری ملے گی ، اس کی فکر نہ کریں، کہتے ہوئے انہیں یقین دلایا۔ اسی بہانے مرحلہ وار دونوں عورتوں سے 51.89لاکھ روپئے وصول کئے۔ نوکری نہیں ملی تو 8.76لاکھ روپئے لوٹانےکے متعلق مضافاتی پولس تھانےمیں شکایت درج ہوئی ہے۔
دھوکہ دہی کےمتعلق اطلاع دیں :ایک اعلیٰ پولس افسر کاکہناہے کہ ’ روزگار کے بہانے رقم اینٹھنے والوں ، جھانسہ دینےوالوں کے متعلق چوکنا رہیں، رشوت دے کر نوکری حاصل کرنا غیر قانونی ہے۔ قانون کا شعور ہونے کےبعد اور اپنی عزت کی خاطر کچھ لوگ خطیر رقم گنوانےکے بعد بھی خاموش ہوجاتےہیں۔ صرف اور صرف گنےچنےلوگ ہی پولس تھانےمیں شکایت درج کرنےکی وجہ سےایسے فریبی معاملات کا پتہ چلتاہے۔ اگر کوئی اس طرح کے جھانسے یا دھوکہ میں رقم کھوئے ہیں تو وہ خاموش نہ رہیں بلکہ پولس کو اطلاع دیں تاکہ مزید لوگ دھوکہ نہ کھائیں ۔